نئی دہلی،24/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے گورنر شکتی کانت داس نے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کو مہنگائی پر قابو پانے کی راہ میں بڑا خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت کو لگنے والے اس طرح کے جھٹکوں کو کم کرنے کے لئے سپلائی کو بہتر بنانے کے لئے وقتی کوششوں کے ساتھ ساتھ طویل مدتی کوششیں بھی ضروری ہیں۔ داس نے کہا کہ سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے کا جھٹکا قلیل المدتی ہے اور مانیٹری پالیسی موجودہ جھٹکے کے ابتدائی اثرات کو کم کرنے کا انتظار کر سکتی ہے۔
تاہم، انہوں نے کہا کہ آر بی آئی محتاط رہے گا کہ جھٹکوں کے دوسرے دور کے اثرات کو باہر نہ آنے دے۔ خوراک کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کا جھٹکا مہنگائی کی توقعات کے استحکام کے لئے خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا مرحلہ ستمبر۲۰۲۲ءسے شروع ہو ا ہے جو اب تک برقرار ہے۔ یہ بات ہمارے لئے قابل تشویش ہے۔ اگر اس پر قابو پانا ہے تو ضروری ہے کہ کچھ اہم قدم اٹھائے جائیں ۔ بہر حال انہوں نے امید ظاہر کی کہ سبزیوں کے دام میں جو اضافہ ہوا ہے وہ نئی سپلائی آنے سے کم ہو جائے گا۔اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جھٹکوں کی شدت اور دورانیہ کو کم کرنے کے لئے سپلائی سائیڈ سے متعلق مسلسل اور بروقت مداخلت بھی ضروری ہے۔آر بی آئی گورنر نے کہا کہ بینک مہنگائی کو ۴؍فیصد پر رکھنے کے ہدف کیلئے پرعزم ہے ۔ اسی لئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملک میں بلند شرح سود طویل عرصے تک برقرار رہنے والی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال فروری میں روس اور یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سےمہنگائی میں اضافہ کے درمیان آر بی آئی نے شرح سود کو مسلسل بڑھایا ہے۔اس سے مہنگائی پر کسی حد تک قابو ملا ہے لیکن وہ آر بی آئی کے طے کردہ ہدف سےاب بھی کافی دور ہے۔ آر بی آئی کے گورنر نے امید ظاہر کی کہ ستمبر سے ملک کی تمام اہم منڈیوں میں سبزیوں کے دام کم ہونے کی امید ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح ۷ء۴؍ فیصد ہے جو گزشتہ ۱۵؍ ماہ کی سب سے زیادہ شرح بتائی جارہی ہے۔